قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: کِتَابُ ذِكْرِ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ (بَابُ ذِكْرِ مَا يَكْفِي الْجُنُبَ مِنْ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى رَأْسِهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

250.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ تَمَارَوْا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ إِنِّي لَأَغْسِلُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ أَكُفٍّ

سنن نسائی:

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ 

  (

باب: جنبی کے لیے سر پر کتنا پانی بہانا کافی ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

250.   حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے پاس غسل کے بارے میں اختلاف کیا۔ کسی نے کہا کہ میں تو اتنی اتنی دفعہ (سر کو) دھوتا ہوں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں تو اپنے سر پر صرف تین چلو پانی بہاتا ہوں۔‘‘