قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ تَفْسِيرِ الْمِسْكِينِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2572.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ قَالُوا فَمَا الْمِسْكِينُ قَالُوا الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلَ النَّاسَ

سنن نسائی:

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: مسکین کی تفسیر (کہ وہ کون ہے؟)

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2572.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”یہ گھومنے پھرنے والا شخص مسکین نہیں جسے ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں پلٹا دیتی ہیں۔“ صحابہ نے عرض کیا: تو پھر مسکین کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ گزارا کر سکے۔ نہ اس (کے فقر) کا کسی کو پتا ہی چلتا ہے کہ اس پر صدقہ کیا جائے اور نہ وہ خود کھڑا ہو کر لوگوں سے مانگتا ہے۔“