قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ مَنَاسِكِ الْحَجِّ (بَابُ الْوَقْتِ الَّذِي خَرَجَ فِيهِ النَّبِيُّ ﷺ مِنْ الْمَدِينَةِ لِلْحَجِّ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2650.   أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَنْ يَحِلَّ

سنن نسائی:

کتاب: حج سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نبئ اکرم ﷺ حج کے لیے مدینہ منورہ سے کب چلے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2650.   حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (حج کے لیے) چلے تو ذوالقعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ ہم (عموماً) حج ہی کی نیت رکھتے تھے مگر جب ہم مکہ مکرمہ کے قریب ہوئے تو آپ نے حکم فرمایا: ”جن کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں، وہ جب بیت اللہ کا طواف کر چکیں تو احرام ختم کر دیں (حلال ہو جائیں)۔