قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: کِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابُ إِبَاحَةِ فَسْخِ الْحَجِّ بِعُمْرَةٍ لِمَنْ لَمْ يَسُقِ الْهَدْيَ)

حکم : صحیح الإسناد

ترجمۃ الباب:

2807.   أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ عَبْدَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ قَالَ سُرَاقَةُ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ فَقُلْنَا أَلَنَا خَاصَّةً أَمْ لِأَبَدٍ قَالَ بَلْ لِأَبَدٍ

سنن نسائی:

کتاب: مواقیت کا بیان 

  (

باب: جس آدمی کے ساتھ قربانی کاجانور نہ ہو ‘وہ حج کے احرام کو عمرے کے احرام میں بدل سکتا ہے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2807.   حضرت سراقہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے تمتع کیا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا، پھر ہم نے کہا: کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“