قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: کِتَابُ الْمَوَاقِيتِ (بَابٌ الْعِلَّةُ الَّتِي مِنْ أَجْلِهَا سَعَى النَّبِيُّﷺ بِالْبَيْتِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2946.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنْ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ فَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ فَقَالَ الرَّجُلُ أَرَأَيْتَ إِنْ زُحِمْتُ عَلَيْهِ أَوْ غُلِبْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ

سنن نسائی:

کتاب: مواقیت کا بیان 

  (

باب: نبیﷺ نے کس وجہ سے رمل فرمایا تھا؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

2946.   حضرت زبیر بن عدی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر ؓ سے حجر اسود کو چھونے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کو اسے چھوتے اور بوسہ دیتے دیکھا ہے۔ وہ آدمی کہنے لگا: فرمائیے اگر بہت بھیڑ ہو اور میں بے بس ہو جاؤں تو؟ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا: اپنا ”فرمائیے“ یمن ہی میں رہنے دے۔ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ حجر اسود کو چھوتے اور بوسہ دیتے تھے۔