قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: کِتَابُ ذِكْرِ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ (بَابُ غَسْلِ الْمَنِيِّ مِنْ الثَّوْبِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

295.   أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْجَزَرِيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْسِلُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَإِنَّ بُقَعَ الْمَاءِ لَفِي ثَوْبِهِ

سنن نسائی:

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ 

  (

باب: کپڑے سے منی دھونا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

295.   حضرت عائشہ‬ ؓ ف‬رماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے جنابت (منی) کو دھو دیتی تھی، پھر آپ نماز کے لیے تشریف لے جاتے جب کہ پانی کے نشانات آپ کے کپڑے میں نظر آتے تھے۔