قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابٌ ذِكْرُ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي النِّكَاحِ وَأَزْوَاجِهِ، وَمَا أَبَاحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ ﷺ وَحَظَّرَهُ عَلَى خَلْقِهِ زِيَادَةً فِي كَرَامَتِهِ وَتَنْبِيهًا لِفَضِيلَتِهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3200.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَنَا فِي الْقَوْمِ إِذْ قَالَتْ امْرَأَةٌ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَأْ فِيَّ رَأْيَكَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ زَوِّجْنِيهَا فَقَالَ اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَذَهَبَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ أَمَعَكَ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ شَيْءٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَزَوَّجَهُ بِمَا مَعَهُ مِنْ سُوَرِ الْقُرْآنِ

سنن نسائی:

کتاب: نکاح سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نکاح اور بیویوں کے بارے میں رسول اللہ کی خصوصی حیثیت وشان اور اس چیز کا بیان جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے حلال کی ہے اور دوسرے لوگو ں پر ممنوع قراردی ہے تاکہ آپ عظیم الشان مرتبہ اور فضیلت ظاہر ہو

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3200.   حضرت سہل بن سعد ؓ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ میں صحابہ میں بیٹھا تھا کہ ایک عورت آکر کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے نکاح کے لیے اپنے آپ کو پیش کرتی ہوں۔ آپ میرے بارے میں فیصلہ کریں۔ (آپ خاموش رہے تو) ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: (اگر آپ کو ضرورت نہیں تو) مجھ سے اس کا نکاح کردیجیے۔ آپ نے فرمایا: ”جا کوئی چیز تلاش کرکے لا، اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی ہو (تاکہ مہر میں دے سکے)۔“ وہ شحص گیا مگر اسے کوئی چیز نہ ملی حتیٰ کہ لوہے کی انگوٹھی بھی نہ ملی۔ تب رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے قرآن مجید کی کچھ سورتیں یاد ہیں؟“ ا سں نے کہا: ہاں۔ آپ نے قرآن مجید کی ان سورتوں (کی تعلیم) کے عوض اس کا اس عورت سے نکاح فرما دیا۔