قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: کِتَابُ ذِكْرِ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ وَمَا لَا يُوجِبُهُ (بَابٌ فِيمَنْ لَمْ يَجِدْ الْمَاءَ وَلَا الصَّعِيدَ)

حکم : صحیح الإسناد

ترجمۃ الباب:

324.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ أَنَّ مُخَارِقًا أَخْبَرَهُمْ عَنْ طَارِقٍ أَنْ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يُصَلِّ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَصَبْتَ فَأَجْنَبَ رَجُلٌ آخَرَ فَتَيَمَّمَ وَصَلَّى فَأَتَاهُ فَقَالَ نَحْوَ مَا قَالَ لِلْآخَرِ يَعْنِي أَصَبْتَ

سنن نسائی:

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟ 

  (

باب: جو آدمی پانی پائے نہ مٹی(تو کیا کرے؟)

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

324.   حضرت طارق ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جنبی ہوگیا (اور اسے پانی نہ ملا) تو اس نے نماز نہ پڑھی۔ پھر وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا: ’’تو نے ٹھیک کیا۔‘‘ ایک اور آدمی جنبی ہوگیا تو اس نے تیمم کرکے نماز پڑھ لی۔ وہ آپ کے پاس آیا تو اسے بھی آپ نے وہی کہا جو دوسرے کو کہا تھا، یعنی تو نے ٹھیک کیا۔