قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْحَيْضِ وَالِاسْتِحَاضَةِ (بَابُ بَدْءِ الْحَيْضِ وَهَلْ يُسَمَّى الْحَيْضُ نِفَاسًا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

348.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ مَا لَكِ أَنَفِسْتِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ

سنن نسائی:

کتاب: حیض اور استحاضےسےمتعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: حیض کی ابتدا(کا بیان)اور کیا حیض کو نفاس کہا جا سکتا ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

348.   حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، فرماتی ہیں: ہم اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ نکلے۔ ہم صرف حج ہی کی نیت رکھتے تھے۔ جب ہم سرف مقام میں پہنچے تو مجھے حیض شروع ہوگیا۔ اللہ کے رسول ﷺ میرے پاس آئے تو میں رو رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’تمھیں کیا ہوا؟ حیض شروع ہوگیا؟‘‘ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ’’یہ ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے۔ تم وہی کرو جو حاجی کریں مگر طواف نہ کرنا۔‘‘