قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ إِلْحَاقِ الْوَلَدِ بِالْفِرَاشِ إِذَا لَمْ يَنْفِهِ صَاحِبُ الْفِرَاشِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3484.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ فَقَالَ سَعْدٌ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ

سنن نسائی:

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: اگر بیوی کا خاوند یا لونڈی کا مالک بچے کی نفی نہ کرے تو بچہ (قانونی طور پر) اسی کا ہوگا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3484.   حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت سعد بن ابو وقاص ؓ اور عبد بن زمعہ ایک لڑکے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ حضرت سعد نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابو وقاص کا بیٹا ہے۔ اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ آپ ذرا اس کی شکل وشباہت پر غور فرمائیں۔ عبد بن زمعہ کہنے لگا: یہ میرا بھائی ہے۔ میرے باپ کے ہاں اس کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی شکل وشباہت کو دیکھا تو وہ واضح طور پر عتبہ کے مشابہ تھا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا: ”اے عبد! یہ تیرا بھائی ہی ہے کیونکہ بچہ گھر والے کا ہوتا ہے اور زانی کو تو پتھر پڑتے ہیں۔ اے سودہ بنت زمعہ! تو اس سے پردہ کیا کر۔“ اس کے بعد اس نے کبھی حضرت سودہ ؓ کو نہیں دیکھا۔