قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: تقریری

سنن النسائي: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ الْقُرْعَةِ فِي الْوَلَدِ إِذَا تَنَازَعُوا فِيهِ وَذِكْرِ الِاخْتِلَافِ عَلَى الشَّعْبِيِّ فِيهِ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3490.   أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ الْأَجْلَحِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ بِالْيَمَنِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا أُتِيَ فِي ثَلَاثَةِ نَفَرٍ ادَّعَوْا وَلَدَ امْرَأَةٍ فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَحَدِهِمْ تَدَعُهُ لِهَذَا فَأَبَى وَقَالَ لِهَذَا تَدَعُهُ لِهَذَا فَأَبَى وَقَالَ لِهَذَا تَدَعُهُ لِهَذَا فَأَبَى قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ وَسَأَقْرَعُ بَيْنَكُمْ فَأَيُّكُمْ أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ فَهُوَ لَهُ وَعَلَيْهِ ثُلُثَا الدِّيَةِ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ

سنن نسائی:

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جب بچے کے بارے میں تنازع ہوجائے تو قرعہ ڈالا جاسکتا ہے نیز زید بن ارقم کی حدیث میں شعبی پر اختلاف کا ذکر

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3490.   حضرت زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس موجود تھا۔ ان دنوں حضرت علی ؓ یمن میں تھے۔ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: میں نے دیکھا کہ حضرت علی ؓ کے پاس تین آدمیوں کا مقدمہ آیا جنہو ں نے ایک عورت کے بچے کے بارے میں دعویٰ کیا تھا۔ حضرت علی ؓ نے ان میں سے ایک سے کہا: کیا تو یہ بچہ اس کو دیتا ہے؟ اس نے انکار کیا‘ پھر دوسرے سے کہا: تو یہ بچہ اس کو دیتا ہے؟ اس نے بھی انکار کیا‘ پھر تیسرے سے کہا: تو یہ بچہ اس کو دیتا ہے؟ اس نے بھی انکار کیا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا: تم جھگڑالو شریک ہو۔ میں تم میں قرعہ ڈالوں گا۔ جس کے حق میں قرعہ نکل آیا‘ بچہ اسے مل جائے گا۔ البتہ اسے دوتہائی دیت ادا کرنا ہوگی۔ رسول اللہﷺ یہ سن کر ہنسنے لگے حتیٰ کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔