قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الطَّلَاقِ (بَابُ الْقَافَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3494.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا فَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ وَعِنْدِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَرَأَى أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ وَقَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ هَذِهِ أَقْدَامٌ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ

سنن نسائی:

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: قیافہ شناسی کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3494.   حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ بڑے خوش خوش میرے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے: ”عائشہ! تجھے علم نہیں کہ ابھی مجزز مدلجی میرے پاس آیا تھا جب کہ اسامہ بن زید میرے قریب (لیٹا ہوا) تھا۔ اس نے اسامہ اور زید دونوں کو دیکھا۔ دونوں کے اوپر چادر تھی اور انہوں نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے‘ البتہ ان کے پاؤں ننگے تھے‘ چنانچہ (یہ دیکھ کر) وہ کہنے لگا: یہ پاؤں تو ایک دوسرے (باپ بیٹے) کے (معلوم ہوتے) ہیں۔“