قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم

سنن النسائي: كِتَابُ الْوَصَايَا (بَابٌ هَلْ أَوْصَى النَّبِيُّﷺ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3624.   أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ يَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَقَدْ دَعَا بِالطَّسْتِ لِيَبُولَ فِيهَا فَانْخَنَثَتْ نَفْسُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَشْعُرُ فَإِلَى مَنْ أَوْصَى

سنن نسائی:

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کیا نبی ﷺ نے کوئی وصیت فرمائی تھی؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3624.   حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے‘ انہوں نے فرمایا: لوگ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو وصیت فرمائی ہے (جبکہ حقیقت یہ ہے کہ) رسول اللہ ﷺ نے پیشاب کرنے کے لیے تھال منگوایا۔ اتنے میں آپ کے اعضاء ڈھیلے پڑگئے (اور آپ اللہ کو پیارے ہوگئے)۔ مجھے (آپ کی وفات کا) پتہ بھی نہیں چلا تو آپ نے کس کو وصیت فرما دی؟