قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْوَصَايَا (بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3627.   أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ وَأَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ قَالَ جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا بِمَكَّةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ لَا قُلْتُ فَالشَّطْرَ قَالَ لَا قُلْتُ فَالثُّلُثَ قَالَ الثُّلُثَ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ فِي أَيْدِيهِمْ

سنن نسائی:

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: وصیت ایک تہائی مال میں ہوسکتی ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3627.   حضرت سعد ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: نبی اکرم ﷺ میری بیمار پرسی کو تشریف لائے۔ میں ان دنوں مکہ میں تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے سارے مال کی وصیت کردوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: نصف؟ فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: تو پھر تہائی؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں تہائی۔ تہای بھی زیادہ ہی ہے۔ تو اپنے ورثاء کو مال دار چھوڑ کر مرے تو بہتر ہے بجائے اس کے کہ تو انہیں فقیر چھوڑ کر مرے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے رہیں۔“