قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْوَصَايَا (بَابُ الْوَصِيَّةِ بِالثُّلُثِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

3631.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَهُ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ لَا قَالَ فَالشَّطْرَ قَالَ لَا قَالَ فَالثُّلُثَ قَالَ الثُّلُثَ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ

سنن نسائی:

کتاب: وصیت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: وصیت ایک تہائی مال میں ہوسکتی ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3631.   حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے‘ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ میری بیماری کے دوران میں میری بیمار پرسی کو تشریف لائے اور فرمایا: ”تم نے کوئی وصیت کی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”کتنے مال کی؟“ میں نے کہا: اپنا تمام مال فی سبیل اللہ صدقہ کرنے کی۔ آپ نے فرمایا: ”اپنے بچوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ میں نے کہا: وہ مال دار ہیں۔ فرمایا: ”وصیت دسویں حصے کی وصیت کرو۔“ آپ کی اور میری تکرار جاری رہی حتیٰ کہ آپ نے فرمایا: ”چلو تیسرے حصے کی وصیت کرلو۔ ویسے تیسرا حصہ بھی زیادہ ہی ہے۔“