قسم الحديث (القائل): موقوف اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الرُّقْبَى (بَابُ ذِكْرِ الِاخْتِلَافِ عَلَى أَبِي الزُّبَيْرِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3713.   أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَا تَصْلُحُ الْعُمْرَى وَلَا الرُّقْبَى فَمَنْ أَعْمَرَ شَيْئًا أَوْ أَرْقَبَهُ فَإِنَّهُ لِمَنْ أُعْمِرَهُ وَأُرْقِبَهُ حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ أَرْسَلَهُ حَنْظَلَةُ

سنن نسائی:

کتاب: رقبیٰ سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: (اس حدیث میں) ابو زبیر پر (کیے گئے) اختلاف کا ذکر

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3713.   حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ عمریٰ اور رقبیٰ درست نہیں۔ جس شخص کو عمریٰ دیا گیا ہو رقبیٰ دیا گیا ہو‘ وہ اسی کے پاس رہے گا جسے عمریٰ یا رقبیٰ دیا گیا۔ اس کی زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔ (یعنی اس کے ورثاء کو منتقل ہوجائے گا)۔ اس حدیث کو حنظلہ بن ابی سفیان جمحی نے مرسل بیان کیا ہے۔