قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ (بَابٌ فِي الْحَلِفِ وَالْكَذِبِ لِمَنْ لَمْ يَعْتَقِدِ الْيَمِينَ بِقَلْبِهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3798.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ وَعَاصِمٌ وَجَامِعٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ قَالَ كُنَّا نَبِيعُ بِالْبَقِيعِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنْ اسْمِنَا ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ

سنن نسائی:

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: ولی قصدو ارادے کے بغیر قسم یا جھوٹ کے الفاظ زبان سے نکل جائیں تو؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3798.   حضرت قیس بن ابی غرزہ ؓ سے روایت ہے‘ انہوں نے فرمایا: ہم بقیع کے بازار میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہمیں اس وقت سمسار (دلال) کہا جاتا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت!“ تو آپ نے ہمارے سابقہ نام سے بہتر نام رکھا۔ پھر فرمایا: ”خریدو فروخت کرتے وقت (بلاقصد) قسم اور جھوٹ صادر ہو جاتے ہیں‘ لہٰذا ساتھ ساتھ صدقہ بھی کیا کرو۔“