قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ (بَابُ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يَصُومَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3816.   أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ يُحَدِّثُ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَكِبَتْ امْرَأَةٌ الْبَحْرَ فَنَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَصُومَ فَأَتَتْ أُخْتُهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا

سنن نسائی:

کتاب: قسم اور نذر سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جو روزے رکھنے کی نذر مانے مگر روزے رکھنے سے پہلے فوت ہوجائے تو؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3816.   حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے‘ انہوں نے فرمایا: ایک عورت سمندری سفر پر گئی۔ اس نے نذر مانی کہ (صحیح سلامت واپسی کی صورت میں) وہ ایک ماہ کے روزے رکھے گی۔ لیکن وہ روزے رکھنے سے قبل ہی فوت ہوگئی۔ اس کی بہن نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ صورت حال آپ سے ذکر کی تو آپ نے حکم دیا کہ تو اس کی طرف سے روزے رکھ لے۔