قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْمُزَارَعَةِ (بَابُ ذِكْرِ الْأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْيِ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلَافُ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ)

حکم : ضعیف الإسناد

ترجمۃ الباب:

3869.   أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَرْضِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ قَدْ عَرَفَ أَنَّهُ مُحْتَاجٌ فَقَالَ لِمَنْ هَذِهِ الْأَرْضُ قَالَ لِفُلَانٍ أَعْطَانِيهَا بِالْأَجْرِ فَقَالَ لَوْ مَنَحَهَا أَخَاهُ فَأَتَى رَافِعٌ الْأَنْصَارَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ

سنن نسائی:

کتاب: مزارعت سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: تہائی یا چوتھائی پیداوار کی شرط پر زمین بٹائی پر دینے سے ممانعت کی مختلف روایات اور اس روایت کے ناقلین کے اختلافات الفاظ کا ذکر

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3869.   حضرت رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک انصاری آدمی کی زمین کے پاس سے گزرے۔ آپ جانتے تھے کہ وہ شخص محتاج ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ زمین کس کی ہے؟“ اس نے کہا: فلاں کی ہے۔ اس نے مجھے کرائے (بٹائی یا ٹھیکے) پر دی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اگر وہ اپنے اس (غریب) بھائی کو (وقتی طور پر عطیے کے طور پر) دے دیتا (تو کیا ہی خوب ہوتا)۔ تو حضرت رافع انصار کے پاس آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے تمہیں ایسے کام سے منع فرما دیا ہے جو تمہارے لیے مفید تھا لیکن رسول اللہ ﷺ کیا اطاعت تمہارے لیے ہر چیز سے بڑھ کر مفید ہے۔