قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْمُزَارَعَةِ (بَابُ ذِكْرِ الْأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْيِ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلَافُ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3875.   أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ وَلَا يُكْرِيهَا تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ

سنن نسائی:

کتاب: مزارعت سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: تہائی یا چوتھائی پیداوار کی شرط پر زمین بٹائی پر دینے سے ممانعت کی مختلف روایات اور اس روایت کے ناقلین کے اختلافات الفاظ کا ذکر

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3875.   حضرت جابر ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس زمین ہو‘ وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو وقتی طور پر بطور عطیہ دے دے لیکن اسے کرایہ (بٹائی یا ٹھیکے) پر نہ دے۔“ اس حدیث کو (عن عطاء عن جابر سے) بیان کرنے میں عبدالرحمن بن عمرواوزاعی نے عبدالملک بن ابی سلیمان کی متابعت کی ہے۔