قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْمُزَارَعَةِ (بَابُ ذِكْرِ الْأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْيِ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلَافُ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3876.   أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ لِأُنَاسٍ فُضُولُ أَرَضِينَ يُكْرُونَهَا بِالنِّصْفِ وَالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ يُزْرِعْهَا أَوْ يُمْسِكْهَا وَافَقَهُ مَطَرُ بْنُ طَهْمَانَ

سنن نسائی:

کتاب: مزارعت سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: تہائی یا چوتھائی پیداوار کی شرط پر زمین بٹائی پر دینے سے ممانعت کی مختلف روایات اور اس روایت کے ناقلین کے اختلافات الفاظ کا ذکر

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3876.   حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں کے پاس فالتو زمینیں تھیں۔ وہ انہیں نصف یا تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض بٹائی پر دیتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص کے پاس فالتو زمین ہو‘ وہ اسے خود کاشت کرے یا کسی اسلامی بھائی کو بلامعاوضہ کاشت کے لیے دے دے یا پھر سنبھالے رکھے۔“ مطر بن طہمان نے اس (اوزاعی) کی موافقت کی ہے۔ (مطر نے بھی اپنی روایت میں عن عطاء میں جابر کہا ہے‘ نہ کہ عن ابن عباس۔