قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ (بَابُ الْغَيْرَةِ)

حکم : صحيح الإسناد

ترجمۃ الباب:

3959.   أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ حَرَمِيٌّ هُوَ لَقَبُهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ يَطَؤُهَا فَلَمْ تَزَلْ بِهِ عَائِشَةُ وَحَفْصَةُ حَتَّى حَرَّمَهَا عَلَى نَفْسِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ

سنن نسائی:

کتاب: عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا بیان 

  (

باب: رشک اور جلن کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3959.   حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کی ایک لونڈی تھی جس سے آپ صحبت کیا کرتے تھے۔ لیکن حضرت عائشہ اور حضرت حفصہؓ آپ کو مجبور کرتی رہیں حتیٰ کہ آپ نے اسے اپنے لیے حرام کرلیا تو اللہ عزوجل نے یہ وحی اتاری: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ…﴾ ”اے نبی! آپ اس چیز کو اپنے لیے حرام قراردے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال رکھا ہے…“ مکمل آیت۔