قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ (بَابُ الْغَيْرَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3962.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ افْتَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَتَجَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي إِنَّكَ لَفِي شَأْنٍ وَإِنِّي لَفِي آخَرَ

سنن نسائی:

کتاب: عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا بیان 

  (

باب: رشک اور جلن کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

3962.   حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہﷺ کو (اپنے قریب) موجود نہ پایا تو میں نے سمجھا آپ اپنی کسی اور بیوی کے پاس چلے گئے ہیں۔ میں نے (باہر نکل کر) آپ کو ڈھونڈا‘ پھر واپس آئی تو آپ رکوع یا سجدے کی حالت میں تھے اور پڑھ رہے تھے: [سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ] ”اے اللہ! تو اپنی خوبیوں سمیت پاک ہے۔ تیرے سوا کوئی برحق معبود نہیں۔“ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کس حال میں ہیں ا ور میں کس حال خیال میں۔