قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ المُحَارَبَة (بَابُ التَّغْلِيظِ فِيمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4115.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ يُقَاتِلُ عَصَبِيَّةً، وَيَغْضَبُ لِعَصَبِيَّةٍ فَقِتْلَتُهُ جَاهِلِيَّةٌ» قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: «عِمْرَانُ الْقَطَّانُ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ»

سنن نسائی:

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان 

  (

باب: جو شخص کسی مبہم جھنڈے کے نیچے لڑے اس کی بابت شدید وعید

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4115.   حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص (اندھا دھند تعصب میں آ کر) کسی مبہم اور اندھے جھنڈے کے تحت لڑا، وہ صرف اپنے گروہ کی حمایت میں لڑتا اور اسی کی حمایت میں غضب ناک ہوتا ہے، (وہ مارا جائے) تو اس کی موت جاہلیت کی (حرام) موت ہو گی۔“ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) ؓ بیان کرتے ہیں کہ (اس حدیث کا راوی) عمران القطان قوی نہیں ہے۔