قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ المُحَارَبَة (بَابٌ تَحْرِيمُ الْقَتْلِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4120.   أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يُرِيدُ قَتْلَ صَاحِبِهِ، فَهُمَا فِي النَّارِ»، قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: «إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ»

سنن نسائی:

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان 

  (

باب: مسلمان کا قتل حرام ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4120.   حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر آمنے سامنے آ جائیں جبکہ ان میں سے ہر ایک، دوسرے کو قتل کرنا چاہتا ہو (پھر خواہ کوئی کسی کو قتل کر دے) تو دونوں آگ میں جائیں گے۔“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! قاتل تو ٹھیک ہے مگر مقتول کیوں؟ آپ نے فرمایا: ”وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے پر حریص تھا۔“