قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ قِسْمِ الْفَيْءِ (بَابُ أَوَّلُ كِتَابُ قِسْمِ الْفَيْءِ)

حکم : حسن صحیح

ترجمۃ الباب:

4139.   أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَعِيرًا فَأَخَذَ مِنْ سَنَامِهِ وَبَرَةً بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنَ الْفَيْءِ شَيْءٌ وَلَا هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ»

سنن نسائی:

کتاب: مال فے اور مال غنیمت کی تقسیم کے مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: مال فے اور مال غنیمت کی تقسیم کے مسائل

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4139.   حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا محترم (حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالٰی عنہ ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک اونٹ کے پاس آئے اور اپنی دو انگلیوں کے درمیان اس کے کوہان سے اون پکڑی، اور فرمایا: ”میرے لیے مال غنیمت سے اتنا بھی جائز نہیں علاوہ خمس کے اور وہ خمس بھی تم پر ہی لوٹا دیا جاتا ہے۔“