قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْغُسْلِ وَالتَّيَمُّمِ (بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

414.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ عَنْ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ ح و أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ أُبَادِرُهُ وَيُبَادِرُنِي حَتَّى يَقُولَ دَعِي لِي وَأَقُولَ أَنَا دَعْ لِي قَالَ سُوَيْدٌ يُبَادِرُنِي وَأُبَادِرُهُ فَأَقُولُ دَعْ لِي دَعْ لِي

سنن نسائی:

کتاب: غسل اور تیمم سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: اس چیز کی رخصت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

414.   حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ میں اور اللہ کے رسول ﷺ ایک برتن سے غسل کرتے تھے۔ میں (پانی لینے میں) آپ سے جلدی کرتی تھی اور آپ مجھ سے جلدی کرتے تھے حتیٰ کہ آپ فرماتے: ’’میرے لیے بھی پانی رہنے دے۔‘‘ اور میں کہتی تھی: میرے لیے بھی پانی رہنے دیں۔ حضرت سوید نے یوں حدیث بیان فرمائی: [یبادرنی وابادرہ فاقول: دع لی دع لی] ’’آپ مجھ سے جلدی کرتے، میں آپ سے جلدی کرتی۔ میں کہتی میرے لیے بھی پانی رہنے دیں، میرے لیے بھی پانی رہنے دیں۔‘‘