قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ (بَابُ إِبَاحَةِ أَكْلِ الْعَصَافِيرِ)

حکم : ضعيف

ترجمۃ الباب:

4349.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ صُهَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ إِنْسَانٍ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا إِلَّا سَأَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا قَالَ يَذْبَحُهَا فَيَأْكُلُهَا وَلَا يَقْطَعُ رَأْسَهَا يَرْمِي بِهَا

سنن نسائی:

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل

 

  (

باب: چڑیا کا گوشت کھانا بھی حلال ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4349.   حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص چڑیا یا اس سے بھی چھوٹے جانور کو ناحق قتل کرے، اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) اس سے اس کے بارے میں پوچھے گا۔“ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! اس کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسے ذبح کر کے کھائے۔ اس کا سر کاٹ کر نہ پھینک دے۔“