قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الضَّحَايَا (بَابُ مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا بِغَيْرِ حَقِّهَا)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

4445.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ صُهَيْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يَرْفَعُهُ قَالَ مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا فَمَا فَوْقَهَا بِغَيْرِ حَقِّهَا سَأَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا حَقُّهَا قَالَ حَقُّهَا أَنْ تَذْبَحَهَا فَتَأْكُلَهَا وَلَا تَقْطَعْ رَأْسَهَا فَيُرْمَى بِهَا

سنن نسائی:

کتاب: قربانی سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جو شخص چڑیا (یا کسی اور حلال جانور) کو ناحق مارے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4445.   حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ آپ(ﷺ) نے فرمایا: ”جس شخص نے چڑیا یا اس سے بڑے کسی جانور کو ناحق قتل کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے اس کے متعلق پوچھے گا۔“ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! اس کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کا حق یہ ہے کہ اسے ذبح کر کے کھائے۔ اس کا سر کاٹ کر پھینک نہ دے۔“