قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْبُيُوعِ (بَابُ اجْتِنَابِ الشُّبُهَاتِ فِي الْكَسْبِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4453.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاللَّهِ لَا أَسْمَعُ بَعْدَهُ أَحَدًا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَاتٍ وَرُبَّمَا قَالَ وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَةً قَالَ وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مَثَلًا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَمَى حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا حَرَّمَ وَإِنَّهُ مَنْ يَرْتَعُ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى وَرُبَّمَا قَالَ إِنَّهُ مَنْ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُرْتِعَ فِيهِ وَإِنَّ مَنْ يُخَالِطُ الرِّيبَةَ يُوشِكُ أَنْ يَجْسُرَ

سنن نسائی:

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کمائی کے دوران مشتبہ چیزوں سے بچنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4453.   حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا، اور اللہ کی قسم! میں آپ کے بعد کسی سے نہ سنوں گا، آپ فرما رہے تھے: ”حلال واضح ہے، حرام بھی واضح ہے لیکن ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں بھی ہیں۔ اس سلسلے میں، میں تمہیں ایک مثال بیان کرتا ہوں۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے کچھ علاقہ ممنوعہ قرار دیا ہے اور وہ علاقہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ جو شخص اس ممنوعہ علاقے کے قریب قریب (جانور) چرائے گا، بہت ممکن ہے کہ وہ اس ممنوعہ علاقے میں چرنے لگے۔ اسی طرح جو شخص مشتبہ کام کرتا ہے، بہت ممکن ہے کہ وہ حرام کام پر بھی جرأت کر بیٹھے۔“