قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْبُيُوعِ (بَابُ مَا يَجِبُ عَلَى التُّجَّارِ مِنَ التَّوْقِيَةِ فِي مُبَايَعَتِهِمْ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4457.   أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ عَنْ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا

سنن نسائی:

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: تاجروں کو خرید و فروخت میں کس چیز سے پرہیز کرنا چاہیے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4457.   حضرت حکیم بن حزام ؓ سے رویات ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو خرید و فروخت کرنے والے جب تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں، انہیں سودا ختم کرنے کا اختیار رہتا ہے۔ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر بات وضاحت سے بیان کر دیں تو ان کے سودے میں برکت ہو گی۔ اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور صورت حال چھپا لیں تو ان کے سودے سے برکت اٹھ جائے گی۔“