قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْبُيُوعِ (بَابُ ذِكْرِالِاخْتِلَافِ عَلَى نَافِعٍ فِي لَفْظِ حَدِيثِهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4468.   أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَمْلَى عَلَيَّ نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَايَعَ الْبَيِّعَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَإِنْ كَانَ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ

سنن نسائی:

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نافع کی حدیث کے الفاظ میں (راویوں کے) اختلاف کا بیان

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4468.   حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب دو شخص سودا کریں تو ان میں سے ہر ایک کو اپنی بیع کی واپسی کے بارے میں ایک دوسرے کے جدا ہونے تک اختیار حاصل ہے۔ یا ان کی بیع میں اختیار ختم کر دیا گیا ہو۔ اگر ایسی بات ہے تو بیع پکی ہو گئی۔ (اب واپسی نہیں ہو گی)۔“