قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْبُيُوعِ (بَابُ ذِكْرِالِاخْتِلَافِ عَلَى نَافِعٍ فِي لَفْظِ حَدِيثِهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4473.   أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ فِي بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَفْتَرِقَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْبَيْعُ خِيَارًا قَالَ نَافِعٌ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ فَارَقَ صَاحِبَهُ

سنن نسائی:

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نافع کی حدیث کے الفاظ میں (راویوں کے) اختلاف کا بیان

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4473.   حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو سودا کرنے والے ایک دوسرے سے جدائی تک اپنی بیع کی واپسی کا اختیار رکھتے ہیں الا یہ کہ وہ بیع خیار والی ہو۔“ نافع نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمرؓ جب کوئی چیز خریدتے اور وہ چیز ان کو اچھی لگتی تو (سودا کرتے ہی) اپنے ساتھی سے جدا ہو جاتے (تاکہ وہ واپس نہ کر سکے)۔