قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْبُيُوعِ (بَابُ وُجُوبِ الْخِيَارِ لِلْمُتَبَايِعَيْنِ قَبْلَ افْتِرَاقِهِمَا بِأَبْدَانِهِمَا)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

4483.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ

سنن نسائی:

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: سودا کرنے والے دو اشخاص جب تک جسمانی طور پر ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے، ان کو واپسی کا اختیار باقی رہتا ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4483.   حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا محترم (حضرت عبداللہ بن عمروؓ) سے منقول ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”سودا کرنے والے دونوں شخص (بائع اور مشتری) جدا ہونے تک سودے کی واپسی کا اختیار رکھتے ہیں الا یہ کہ وہ سودے کے دوران میں اختیار ختم کر چکے ہوں۔ اور کسی ایک فریق کو اجازت نہیں کہ وہ سودے کی واپسی کے ڈر سے اپنے ساتھی سے جدا ہو جائے۔“