قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْبُيُوعِ (بَابُ الْخَدِيعَةِ فِي الْبَيْعِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4485.   أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ كَانَ يُبَايِعُ وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ احْجُرْ عَلَيْهِ فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنْ الْبَيْعِ قَالَ إِذَا بِعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ

سنن نسائی:

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: سودے میں دھوکا لگتا ہو تو؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4485.   حضرت انس ؓ سے منقول ہے کہ ایک آدمی کی سوجھ بوجھ میں کچھ کمی تھی۔ وہ سودے کیا کرتا تھا (اور نقصان اٹھاتا تھا) اس کے گھر والوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہو کر عرض کی: اے اللہ کے نبی! اس پر سودے کرنے کی پابندی لگا دیں۔ اللہ کے نبی ﷺ نے اس شخص کو بلایا اور اسے سودے کرنے سے منع فرمایا۔ اس شخص نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں سودا کرنے سے نہیں رک سکوں گا۔ آپ نے فرمایا: ”جب تو سودا کرے تو کہہ دیا کر، دھوکا نہیں ہونا چاہیے۔ (ورنہ سودا واپس ہو جائے گا)۔“