قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْبُيُوعِ (بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُصَرَّاةِ: وَهُوَ أَنْ يَرْبِطَ أَخْلَافَ النَّاقَةِ، أَوِ الشَّاةِ، وَتُتْرَكَ مِنَ الْحَلْبِ يَوْمَيْنِ، وَالثَّلَاثَةَ حَتَّى يَجْتَمِعَ لَهَا لَبَنٌ فَيَزِيدَ مُشْتَرِيهَا فِي قِيمَتِهَا لِمَا يَرَى مِنْ كَثْرَةِ لَبَنِهَا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4487.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ مَنْ ابْتَاعَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ فَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعُ تَمْرٍ

سنن نسائی:

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: تصریہ منع ہے وہ یہ ہے کہ اونٹنی یا بکری کے تھن باندھ دئیے جائیں اور دو تین دن دودھ دوہنا چھوڑ دیا جائے تاکہ دودھ جمع ہو جائے اورخریدنے والا دودھ زیادہ سمجھ کر جانور کی زیادہ قیمت لگائے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4487.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”غلے والے قافلوں کو (منڈی سے باہر جا کر) خرید و فروخت کے لیے نہ ملو اور اونٹنی یا بکری کا دودھ نہ روکو۔ جو شخص ایسا جانور خرید لے تو اسے (دودھ دوہنے کے بعد) دو چیزوں میں سے بہتر کا اختیار ہے۔ اگر چاہے تو جانور رکھ لے اور اگر واپس کرنا چاہے تو واپس کر دے اور اس کے ساتھ کھجوروں کا ایک صاع بھی دے۔“