قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْبُيُوعِ (بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُصَرَّاةِ: وَهُوَ أَنْ يَرْبِطَ أَخْلَافَ النَّاقَةِ، أَوِ الشَّاةِ، وَتُتْرَكَ مِنَ الْحَلْبِ يَوْمَيْنِ، وَالثَّلَاثَةَ حَتَّى يَجْتَمِعَ لَهَا لَبَنٌ فَيَزِيدَ مُشْتَرِيهَا فِي قِيمَتِهَا لِمَا يَرَى مِنْ كَثْرَةِ لَبَنِهَا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4488.   أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ ابْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَإِنْ رَضِيَهَا إِذَا حَلَبَهَا فَلْيُمْسِكْهَا وَإِنْ كَرِهَهَا فَلْيَرُدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ

سنن نسائی:

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: تصریہ منع ہے وہ یہ ہے کہ اونٹنی یا بکری کے تھن باندھ دئیے جائیں اور دو تین دن دودھ دوہنا چھوڑ دیا جائے تاکہ دودھ جمع ہو جائے اورخریدنے والا دودھ زیادہ سمجھ کر جانور کی زیادہ قیمت لگائے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4488.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے ایسا جانور خریدا جس کا دودھ روکا گیا تھا تو (اس دھوکے کا پتا چل جانے پر) وہ (خریدار) چاہے تو اسے رکھ لے، چاہے واپس کر دے (لیکن واپسی کی صورت میں) اس کے ساتھ کھجوروں کا ایک صاع بھی دینا ہو گا۔“