قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْبُيُوعِ (بَابُ بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ مُتَفَاضِلًا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4555.   حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلَا دِرْهَمًا بِدِرْهَمَيْنِ

سنن نسائی:

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کھجور کی بیع کھجور کے بدلے میں کمی بیشی کے ساتھ (جائز نہیں)

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4555.   حضرت ابو سعید خدری ؓ نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ ﷺ کے دور مبارک میں ملی جلی کھجوریں دی جاتی تھیں۔ ہم ان کے دو صاع دے کر عمدہ کھجور کا ایک صاع لے لیتے تھے۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: ”کھجور کے ایک صاع کے بدلے دو صاع نہیں لیے جا سکتے اور نہ گندم کے ایک صاع کے بدلے دو صاع لیے جا سکتے ہیں۔ اور نہ ایک در ہم کا سودا دو در ہم سے ہو سکتا ہے۔“