قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْبُيُوعِ (بَابُ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4571.   أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ النَّهْيَ عَنْ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تَبِيعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ وَلَا تُشِفُّوا أَحَدَهُمَا عَلَى الْآخَرِ

سنن نسائی:

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: سونے کی بیع سونے کے ساتھ کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4571.   حضرت ابو سعید خدری ؓ نے فرمایا: میری آنکھوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اور میرے کانوں نے آپ کے منہ مبارک سے سنا: ”آپ نے سونے کی سونے کے بدلے اور چاندی کی چاندی کے بدلے خرید و فروخت سے منع فرمایا مگر جب (دونوں طرف سے) برابر ہوں۔ اور فرمایا کہ تم ان میں سے موجود کا غیر موجود سے سودا نہ کرو اور کسی ایک کو دوسرے سے زائد نہ کرو۔“