قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْبُيُوعِ (بَابُ أَخْذِ الْوَرِقِ مِنَ الذَّهَبِ، وَالذَّهَبِ مِنَ الْوَرِقِ وَذِكْرُ اخْتِلَافِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ ابْنِ عُمَرَ فِيهِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

4583.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ ابْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ أَوْ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَقَالَ إِذَا بَايَعْتَ صَاحِبَكَ فَلَا تُفَارِقْهُ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ

سنن نسائی:

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: سونے کی جگہ چاندی لینا اور چاندی کی جگہ سونا لینا اور حضرت ابن عمرؓ کی روایت کے ناقلین کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4583.   حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں سونے کا چاندی کے ساتھ اور چاندی کا سونے کے ساتھ سودا کیا کرتا تھا۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ بات بتلائی تو آپ نے فرمایا: ”جب تو اپنے ساتھی سے (اس قسم کا) سودا کرے تو اس سے ایسی حالت میں جدا نہ ہو کہ تیرے اور اس کے درمیان کوئی شبہات والی چیز باقی ہو۔“