قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْبُيُوعِ (بَابُ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَ الْبَائِعِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4613.   حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَأْتِينِي الرَّجُلُ فَيَسْأَلُنِي الْبَيْعَ لَيْسَ عِنْدِي أَبِيعُهُ مِنْهُ ثُمَّ أَبْتَاعُهُ لَهُ مِنْ السُّوقِ قَالَ لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ

سنن نسائی:

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جو چیز بیچنے والے کے پاس نہ ہو اس کی بیع

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4613.   حضرت حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور مجھ سے ایسی چیز بیچنے کا مطالبہ کرتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی۔ میں اس سے اس کا سودا کر لیتا ہوں، پھر میں اسے بازار سے خرید کر لا دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”جو چیز تیرے پاس نہیں، اس کا سودا نہ کر۔“