قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الْبُيُوعِ (بَابُ مَطْلِ الْغَنِيِّ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4688.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ، وَالظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ»

سنن نسائی:

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: مال دار شخص کا ادائگی میں ٹال مٹول کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4688.   حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی (قرض خواہ) کو کسی مال دار شخص کے پیچھے لگایا جائے تو اسے پیچھے لگ جانا چاہیے۔ (اگر اسے کسی مال دار شخص سے اپنا قرض وصول کرنے کی پیش کش کی جائے تو وہ یہ پیش کش قبول کر لے)۔ ظلم یہ ہے کہ مالدار شخص ٹال مٹول (ادائیگی میں تاخیر) کرے۔“