قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ قَطْعِ السَّارِقِ (بَابُ ذِكْرِ اخْتِلَافِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ الزُّهْرِيِّ فِي الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4895.   أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أُسَامَةَ فَكَلَّمُوا أُسَامَةَ فَكَلَّمَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُسَامَةُ إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ كَانُوا إِذَا أَصَابَ الشَّرِيفُ فِيهِمْ الْحَدَّ تَرَكُوهُ وَلَمْ يُقِيمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا أَصَابَ الْوَضِيعُ أَقَامُوا عَلَيْهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُهَا

سنن نسائی:

کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: مخزومی چور عورت والی زہری کی روایت میں لفظی اختلاف

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4895.   حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے کہ ایک عورت نے چوری کرلی۔ اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا۔ لوگوں (عورت کے رشتے داروں) نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے سامنے سفارش کی کون جرات کرسکتا ہے؟ اسامہ شاید کرے۔ انہوں نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا۔ اسامہ نے رسول اللہ ﷺ سے (اس عورت کی معافی کی) سفارش کر دی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”اسامہ! بنو اسرائیل اسی لیے ہلاک ہوئے تھے کہ جب ان میں کوئی بلند مرتبہ شخص کوئی حد پھلانگ لیتا تو اسے چھوڑ دیتے اور حد نہ لگاتے۔ اور جب کوئی کم مرتبہ شخص غلطی کر بیٹھتا تو اس پر حد قائم کردیتے۔ اگر اس کی بجائے محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“