قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ الْحَالِ الَّتِي يَجُوزُ فِيهَا اسْتِقْبَالُ غَيْرِ الْقِبْلَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

490.   أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَتَوَجَّهُ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ

سنن نسائی:

کتاب: نماز سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: وہ حالت جس میں قبلے کی بجائے کسی اور طرف نماز پڑھنا جائز ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

490.   حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر نفل نماز پڑھتے تھے، سواری کا منہ جس طرف بھی ہوتا۔ اسی طرح وتر بھی سواری پر پڑھتے تھے۔ مگر فرض نماز سواری پر نہیں پڑھتے تھے۔