قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ قَطْعِ السَّارِقِ (بَابٌ الثَّمَرُ الْمُعَلَّقُ يُسْرَقُ)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

4957.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَمْ تُقْطَعُ الْيَدُ قَالَ لَا تُقْطَعُ الْيَدُ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ فَإِذَا ضَمَّهُ الْجَرِينُ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ وَلَا تُقْطَعُ فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ فَإِذَا آوَى الْمُرَاحَ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ

سنن نسائی:

کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: درخت پر لگا ہوا پھل چر لیا جائے تو ؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

4957.   حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا (عبداللہ بن عمرو ؓ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ ہاتھ کتنے (مال) میں کاٹا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”درخت پر لگے ہوئے پھل توڑنے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، البتہ جب پھل توڑ کر ڈھیر لگا دیا گیا ہو تو ڈھال کی قیمت کے برابر چوری کرنے سے ہاتھ کاٹا جائے گا۔ (اسی طرح) پہاڑ پر چرتی بکری چرانے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، البتہ بکری باڑے میں آ جائے تو پھر اسے چرانے میں ہاتھ کاٹا جائے گا بشرطیکہ اس کی قیمت ڈھال سے کم نہ ہو۔