قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن النسائي: كِتَابُ الزِّينَةِ مِنَ السُّنَنِ (بَابٌ صِفَةُ خَاتَمِ النَّبِيِّﷺ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5201.   أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ بِشْرٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ فَقَالُوا إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ وَنُقِشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ

سنن نسائی:

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: نبی اکرم ﷺ کی انگوٹھی کیسی تھی؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5201.   حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے روم (اور فارس کے بادشاہوں) کی طرف خطوط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے کہا: وہ لوگ مہر کے بغیر خط نہیں پڑھتے تو آپ نے چاندی کی مہر(انگوٹھی) بنوا لی۔ مجھے اب بھی ایسے محسوس ہوتا ہے کہ میں آپ کے ہاتھ مبارک میں اس کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ اور آپ نےاس میں ”محمد رسول اللہ“ نقش کروایا ہے۔