قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الِاسْتِعَاذَةِ (بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ مِنْ الْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5454.   أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ قَالَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَطِيَّةَ وَكَانَ خَيْرَ أَهْلِ زَمَانِهِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا يَتَعَوَّذُ مِنْ الْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَكْثَرَ مَا تَتَعَوَّذُ مِنْ الْمَغْرَمِ قَالَ إِنَّهُ مَنْ غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ

سنن نسائی:

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: قرض اور گناہ سے پناہ مانگنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5454.   حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ (جان لیوا) قرض اور گناہ سے بہت زیادہہ پناہ طلب فرمایا کرتے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ قرض سے اس قدر پناہ کیوں مانگتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اس لیے کہ جو شخص مقروض ہو جائے (قرض تلے دب جائے) وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے۔“