قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الِاسْتِعَاذَةِ (بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ مِنَ الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوءِ الْأَخْلَاقِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5470.   أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفٌ عَنْ حَفْصٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ

سنن نسائی:

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: مخالفت و دشمنی ‘ نفاق اور بدخلقی سے پناہ مانگنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5470.   حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبئ اکرم ﷺ یہ دعائیں فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے‘ ایسے دل سے جس میں (اللہ تعالیٰ کا) ڈر نہ ہو‘ ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے (قبول نہ کی جائے۔) اور ایسے نفس سے سیر نہ ہو۔“ پھر فرماتے: ”اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ کا طالب ہوں۔“