قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الِاسْتِعَاذَةِ (بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلَ، وَذِكْرُ الِاخْتِلَافِ عَلَى هِلَالٍ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5524.   أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدَةُ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ يَسَافٍ قَالَ سُئِلَتْ عَائِشَةُ مَا كَانَ أَكْثَرُ مَا كَانَ يَدْعُو بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ أَكْثَرُ دُعَائِهِ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ بَعْدُ

سنن نسائی:

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: اپنے برےاعمال کےشرسے اللہ تعالی کی پناہ مانگنا اور(راوئ حدیث ) ہلال پراختلاف کابیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5524.   حضرت ہلال بن یساف نے کہا کہ حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے پوچھا گیا: نبئ اکرم ﷺ اکثر کون سی دعا کیا کرتےتھے؟ انھوں نے فرمایا: آپ اکثر یہ دعا فرمایا کرتے: ”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اپنے ان کاموں کےشرسے جومیں کر چکا ہوں اوران کاموں کے شر سے جومیں نے ابھی نہیں کیے۔“