قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن النسائي: كِتَابُ الِاسْتِعَاذَةِ (بَابُ الِاسْتِعَاذَةِ مِنَ الْخَسْفِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5529.   أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي قَالَ جُبَيْرٌ وَهُوَ الْخَسْفُ قَالَ عُبَادَةُ فَلَا أَدْرِي قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَوْلُ جُبَيْرٍ

سنن نسائی:

کتاب: اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: دھنسائے جانے سے اللہ تعالی کی پناہ مانگنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ حافظ محمد امین (دار السلام)

5529.   حضرت ابن عمر ؓ نےفرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے سنا: ”اے اللہ! میں اس بات سے تیری عظمت کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں نیچے سے اچانک ہلاک کر دیا جاؤں۔“ یہ حدیث مختصر ہے۔ جبیر نے کہا کہ نیچے سے اچانک ہلاک کردیے جانے سے مراد ہے زمین میں دھنس جانا۔ عبادہ نےکہا: میں نہیں جانتا کہ یہ نبی ﷺ کا فرمان ہے یا جبیر کا (اپنا) قول ہے۔